نذرانہ عقیدت

ایک عرصہ تک دوستوں سے عورت کے کردار پر بحث کرنے کے بعد جب عمر عزیز نے چالیس سال پار کیے تو مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں یہ بات طے ہو گئی کہ عورت مرد کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ دنیاوی تحائف میں سےسب سے بڑا تحفہ ہے۔ ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ادراک ہوا کہ اگر مرد عورت کو عزت و احترام دے تو وہ اس کو دس گنا کر کے واپس لوٹاتی ہے۔ اگرچہ میری اس بات سے کچھ لوگ متفق نہیں ہوں گے لیکن میں اکثریتی بنیاد پر پورے اعتماد اور وثوق کے ساتھ اس حقیقت کا اشتراک کر رہا ہوں ۔
کوئی شک نہیں کہ تمام خواتین ایک جیسی نہیں ہیں۔ ان کی عادات، سوچیں اور دلچسپیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو ان میں قدرتی طور پر مشترک ہیں۔ آپ اس کو جس زاویہ سے بھی دیکھ لو یہ آپ کو وفا کی دیوی معلوم ہو گی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تجزیہ کرنے سے پہلے آپ کو تعصب اور انا کی عینک اتارنا پڑے گی۔ جہاں آپ کو یہ بے وفا معلوم ہو گی وہیں کسی سے وفا نبھاتی نظر آئیگی۔ خوش قسمت ہیں وہ مرد جو اس کی وفا اور محبت سے بہرہ ور ہیں۔ عورت وفا اور محبت دونوں ہی جذبوں میں بے مثال ہے۔ یہ تحریر لکھنے کا مقصد مرد کی توجہ عورت کی شخصیت کے چند ان گوشوں کی جانب مبذول کروانا ہے جس کو مرد اکثر نظر انداز کرتے ہیں اور اپنی زندگی جنت نما بنانے کی بجائے دوزخ نما بنا لیتے ہیں۔
ایک ذہین اور سمجھدار عورت کا اعتماد حاصل کرنا مرد کے لیے خاصا مشکل ہوتا ہےلیکن جب عورت مرد کو آزمائشی اوقات سے گزار کراس پراعتماد کرنا شروع کرتی ہے تو پھر دل و جان نچھاور کر دیتی ہے۔ اپنی غمی، خوشی، راحت و سکون کا سرچشمہ مرد کی ذات کو بنا لیتی ہے بس یوں سمجھیے کہ اپنے دل کے دروازہ کی کنجی مرد کو تھما دیتی ہے۔ ایسی صورت میں اعلیٰ ظرف مرد تو عورت کی اس ادا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے لیکن پست ذہن مرد اس کے اس بے لوث جذبہ کا غلط استعمال کرتے ہیں اور عورت کو خوشی کے افق پر بٹھانے کی بجائے غم و تکلیف کے سمندرمیں پھینک دیتے ہیں اور عورت کے اعتماد کو ایسی ٹھیس پہنچاتے ہیں کہ وہ مدتوں کسی مرد پر اعتبار نہیں کرتی۔ بعض عورتوں کے لیے یہ صورتحال تو روگ کا درجہ اختیار کر جاتی ہے اور وہ عمر بھر اس صدمہ سے باہر نہیں نکل پاتیں۔
مردوں کی بری عادتوں میں سے ایک بری عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ جب کوئی نئی عورت ان کی زندگی میں آتی ہے تو وہ اپنے ساتھی کی تمام محبتیں اور وفائیں یکسر بھلا دیتا ہے۔ نئی نویلی شریک سفر کی تو عبادت شروع کر دیتا ہے اور جس نے زندگی کے کئی ماہ و سال اس کی الفت میں بسر کیے ہوتے ہیں اسے وہ اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ نظر آتی ہے۔ نویلی نویلی دوست کے انداز، نخرے اور خیال ہمہ وقت اس کے دماغ میں رقص کرتے رہتے ہیں اور اپنی خاتوں خانہ کے دل پر چھریاں چلانا اس کا معمول بن جاتا ہے۔ اگرچہ یہ صورتحال متاثرہ عورت کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتی لیکن بالآخر کھیل کے اختتام پر نتیجہ مرد کے حق میں بھی برا ہی نکلتا ہے۔
تعلقات کے سفر میں اونچ نیچ جاری رہتی ہے اور انسان بہت سے بھیانک تجربات سے بھی گزرتا ہے۔ کہیں عورت کو مرد کی بے وفائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کہیں مرد کو عورت کی بے وفائی سہنا پڑتی ہے۔ یہ زندگی کے مدوجزر ہیں اور انہیں چارو ناچار جھیلنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن بھری دنیا میں محض ایک شخص کے رویہ کو بنیاد بنا کر باقی ماندہ زندگی کو دکھوں کی آماجگاہ بنا لینا دانشمندی نہیں۔ یہ دنیا خوبصورت لوگوں اور خوبصورت دلوں سے بھری پڑی ہے ۔ اگر کوئی ایک آپ کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ کوئی ایک آپ کی محبتوں اور قربانیوں کا قدر دان نہیں نکلا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پوری دنیا ہی اس جیسی ہے۔ میری دانست میں بد قسمت ہے وہ شخص جو محض ایک انسان کے بے وفا رویہ کی وجہ سے پوری دنیا کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کر لیتا ہے۔ اس دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک خالص دل موجود ہے۔ آگے بڑھیے اور تھام لیجیے کوئی چمکتا دمکتا نیا دل اور سب اچھے کی امید رکھیے۔ موت اور زندگی کے درمیان بہت تھوڑا فاصلہ ہے اس کو غموں اور دکھوں کی نذر مت کیجیے۔ چند غمناک اور افسوسناک تجربات کو اپنی زندگی کی چمک دمک کو مدھم کرنے کا موقع مت دیجیےاور بے لطفی کو تو اپنے پاس پھٹکنے بھی نہ دیں ورنہ یہ کیفیت زندگی کو بے رونق کرنے میں دیر نہیں کرتی۔
ہر انسان ہر حوالے سے صحت مند زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔ اور تفریح کے بغیر صحت مند زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تفریح کو اپنا معمول بنا لیں۔ ہر ہفتہ کے اختتام پر اپنے من پسند ساتھی کے ساتھ بھرپور تفریحی لمحات گزاریئے۔ اپنے پسندیدہ تفریحی مقامات کی ایک فہرست مرتب کیجیے۔ ایک ایک کر کے ان مقامات کی سیر کو جایئے۔ زندگی کو زندگی سمجھ کر بسر کیجیے۔ محض دولت کا حصول ہی آپ کا مطمع نظر نہیں ہونا چاہیے۔کچھ لوگ تو پیسے بنانے کی مشین بن چکے ہیں۔ یاد رکھیے اگر ایک دفعہ یہ مشین خراب ہو گئی تو دنیا کا کوئی مکینک اسے ٹھیک نہیں کر سکتا۔ اپنی سیر سپاٹے کی تاریخ کو آگے ہی آگے لے جانے کی روش ترک کیجیے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی ساری خوشیاں اور سیر سپاٹے کیلنڈر میں ہی مقید ہو کر رہ جائیں۔
جب بات آتی ہے خوشحال زندگی کی تو میرے دوست یہ خوشحالی عورت کی خوشی سے نتھی ہے۔ آپ محض سیانی اور مدلل گفگو سے عورت کو خوش نہیں کر سکتے۔ جو مرد عورت سے بات کرتے وقت ٹوکری بھر بھر کر دلیلیں دیتے ہیں اور ان کو قائل کرتے ہیں وہ انجان بھی ہیں اور بے وقوف بھی۔ جب اپنی تمام تر عقلی دلیلوں کے استعمال کے بعد بھی وہ عورت کو قائل نہیں کر پاتے تو اکثر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور غصہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر گھر کا سکون برباد کر لیتے ہیں۔ مرد کو ایک بات ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ مرد اور عورت کی نفسیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مرد حقیت پسند اور چیزوں کو آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ کر یقین کرتا ہے۔جذباتی نہیں بلکہ عملی ہے۔ اس کے بر عکس عورت جذباتی ہے۔ اگر مرد نے اسے قائل کرنا ہے تواسے عورت کو جذباتی طور پر تحریک دینا ہو گی۔ عورت کے ایسے بٹن دبانا ہوں گے جو اسے جذباتی طور پر متحرک کر دیں تبھی مرد عورت سے حسب مرضی کام لے سکتا ہے۔ رعب ڈالنا، اپنی برتری ثابت کرنا، بے جا انا پرستی جیسے منفی رویوں کا اطلاق عورت پر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس رویہ کی وجہ سے عموما عورت کے دل میں مرد کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ عورت آپ کی زندگی کی ساتھی ہے۔ آپ کی غلام نہیں۔ آپ اس کی عزت کریں گے وہ آپ کی عزت کرے گی۔ آپ اس کی قدر کریں گےتو وہ آپ کی قدر کرے گی۔ آپ اس کی بات پر توجہ دیں گےتو وہ آپ کی بات توجہ سے سنے گی۔ آپ عہد کر لیں کہ آپ نے اس پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کرنا بلکہ ہر فیصلہ اس کی مشاورت سے کرنا ہے۔ یہی وہ زندگی کے راز ہیں جو خوشگوار زندگی کے ضامن ہیں۔
ایک اور اہم بات جس کی طرف مرد حضرات کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جب ان کی زندگی میں کوئی نئی عورت داخل ہوتی ہے اس کو اچھی طرح جانچ پرکھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اس طرح آپ کی زندگی میں اٹھنے والے طوفانوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی۔

جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ عورت مرد کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انمول تحفہ ہے تو اس کو بھی تحفہ دیتے وقت کنجوسی سے کام مت لیں۔ یہ تو اٹل حقیقت ہے کہ تحائف کے تبادلے سے محبت پنپتی ہے۔ لہٰذا عورت کو گاہے گاہے تحائف دیتے رہا کریں۔ ضروری نہیں یہ تحائف بہت قیمتی ہوں ۔ معمولی تحفہ بھی خلوص کے ورق میں لپٹا ہو تو قدرو قیمت کے حوالے سے نایاب ہوتا ہے۔ عورت کی سالگرہ جوش و جذبے سے منائیے اور اسے احساس دلاتے رہیے کہ وہ آپ کے لیے کس قدر قیمتی ہے۔ یاد رکھیے ایک خوب صورت اور خوش دل عورت زندگی سے نکل جائے تو یہ مرد کا شاید دنیا میں سب سے بڑا نقصان ہو گا۔ عورت کے میک اپ سے لے کر اس کے ہر پہناوے کی دل و جان سے تعریف کیجیے۔

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ مرد عورت کی معمولی سی لغزش کو بھی بھی برداشت نہیں کرتے اور اسے اس کی غلطی کا احساس دلا کر شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جانب عورت مرد کی سینکڑوں کوتاہیوں کو نظر انداز کرتی ہے اور مرد کو شرمندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔ اس برعکس کوشش کریں کہ اس کی ذات کا کوئی خوبصورت اور مثبت پہلو اجاگر کرتے رہیں اور اگر کسی بات کی اصلاح ناگزیر ہو تو ہنسی مذاق میں اس کا تذکرہ کر دیں اس طرح عورت کا موڈ بھی خراب نہیں ہو گا اور آپ کی بات بھی اس تک پہنچ جائے گی۔
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیے ہیں لہٰذا اس پہیہ کو بھی اتنی ہی اہمیت دو جتنی اپنے والے پہیہ کو دیتے ہو کیونکہ جس پہیہ کو بھی خراش آئی گاڑی کا چلنا ناممکن ہے۔ مطلب یہ کہ اس کی ضروریات اور احساسات کا بھی اتنا ہی خیال رکھیے جتنا آپ اپنا رکھتے ہیں ۔ عورت ایسے مرد کو ٹوٹ کر چاہتتی جو اس کا خیال رکھے خاص کر اس کے احساسات اور جذبات کا۔ جلوت اور خلوت میں اس کو عزت دیں۔ دوسروں کے سامنے اس کی تعریف کریں۔ یاد رہے عورت کی جسمانی راحت اس کی ذہنی آسودگی سے منسلک ہے۔ جتنا آپ اسے ذہنی سکون دیں گے اتنا ہی وہ جسمانی طور پر پر مسرت نظر آئیگی اور آپ کو لذت کے سمندر سے سیراب کر دے گی۔
عورت کہانیاں پسند کرتی ہے اور مرد کے ساتھ بھی کہانی ہی کی طرح برتاو کرتی ہے۔ اس کی ہر کہانی غور سے سنو۔ ایک اچھے سامع بنو۔ ایک اچھا سامع عورت کا پسندیدہ کردار ہوتا ہے۔ اسے سننے سے زیادہ سنانے کا شوق ہوتا ہے۔ بس سنتے جائیے اس کی ہر کہانی ۔ خوشی اور مسرت کے عکس اس کی آنکھوں سے جھلکتے نظر آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں