چند مشورے شادی شدہ مردوں کی نذر

تحریر: عبدالرزاق جگ
ان دنوں ٹینشن جس تیزی سے لوگوں میں سرایت کر رہی ہے لگتا ہے کچھ عرصہ تک سب ہی ڈپریشن کے مریض ہوں گے ۔ خیر اللہ نہ کرے ہمارا معاشرہ اس قسم کی کسی مصیبت سے دوچار ہو ۔ آج کے مشینی دور میں انسان بھی مشین کی مانند ہو چکا ہے ۔ مادی اشیا کی چکا چوند میں دن رات نئی سے نئی خواہش کی گرفت میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے پاس اپنے لیے وقت ہے نہ دوسروں کے لیے ۔ حتٰی کہ اس کا خاندان بھی اس کی شکل دیکھنے کو ترستا رہتا ہے ۔ ایک بات ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ مرد تو باہر دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مشغول ہو کراپنے آپ کو ترو تازہ کر لیتا ہے لیکن عورت کی ہشاشت بشاشت کا واحد ذریعہ اس کا مرد ہی ہوتا ہے جو گھر پہنچتے ہی اس بات کو پس پشت ڈال دیتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی منتظر تھی اور وہ اس سے محبت بھرے چند جملے سننے کی خواہش مند ہے ۔ جو مرد اس بات کا خیال رکھتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں ابال اٹھنے کے کم چانس ہوتے ہیں اور جو اس اہم بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ان کی زندگی میں کسی بھی وقت طوفانی جھکڑ چل سکتے ہیں ۔ لہٰذا اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کی خاطر اس اہم نقطہ کی جانب توجہ ضرور دیجیے اور اپنی شریک حیات کو تعریفی کلمات سے بھی نوازتے رہیں ۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مرد حضرات اپنی بیوی کی باتوں پر توجہ نہیں دیتے ۔ بس اپنی سنائی جاتے ہیں اور اپنی بیوی کے نقطہ نظر کی ہرگز پرواہ نہیں کرتے ۔ جبکہ دوسری جانب بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا مرد اس کی بات بھی سنے ۔ اسے اہمیت دے ۔ اس کی رائے کو مقدم جانے لیکن زیادہ تر معاملات میں ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے کہ مرد عورت کے دل کی بات سنے ۔ یہ صورتحال بھی آگے چل کر حالات کی خرابی کا باعث بنتی ہے لہٰذا مردوں کو اس پہلو کی طرف بھی توجہ دینی پڑے گی اگروہ ہمیشہ کے لیے پرسکون رہنا چاہتے ہیں ۔
اگر ہم ذرا تاریخ کے اوراق ٹٹول کر دیکھیں تو ہ میں معلوم ہو گا کہ بہت نامی گرامی شخصیات کی زندگی بھی ان بظاہر چھوٹی چھوٹی لیکن حقیقت میں بڑی وجوہات کی وجہ سے بکھر کر رہ گئی ۔ کرکٹ کے میدان کو ہی لے لیجیے ۔ عمران خان، سرفراز نواز، محسن خان، اظہرالدین، شین وارن، بریٹ لی، سنتھ جے سوریا، ہرشل گبز جیسے سپر اسٹارز کی زندگی بھی محض ان ہی وجوہات کی بنا پر ڈسٹرب ہوئی ۔ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین کرکٹر اور بعد ازاں ہر دلعزیز سیاستدان بنے لیکن جمائما خان سے انہیں الگ ہونا پڑا ۔ اس کی وجہ عمران خان متعدد مرتبہ اپنی زبانی بتا چکے ہیں کہ سیاست کی وجہ سے وہ جمائما کے لیے وقت نہیں نکال پاتے تھے اور بالآخر نوبت طلاق تک پہنچ گئی ۔ سری لنکا کے سپر اسٹار سنتھ جے سوریا نے شادی کی تین اننگز کھیلیں لیکن تینوں بار کلین بولڈ ہو گئے ۔ ہندوستانی کرکٹر اظہرالدین کا شمارانڈیا کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے لیکن وہ بھی شادی کے میدان میں چاروں شانے چت ہوے ۔ دو دفعہ شادی کے بندھن میں بندھے لیکن دونوں دفعہ شادی ناکام ہو گئی ۔

دوسری جانب اگر ہالی ووڈ کے سپر اسٹارز کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو کئی ایسے نامور چہرے ہیں جن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دنیا ترستی ہے لیکن وہ بھی شادی کے معاملے میں ٹھس ہو گئے ۔ ان میں ٹام کروز اور نکول کڈ مین ، ٹام کروز اور کیٹی ہوم، ڈیمی موراور بروس ولس ، بریڈٹ اور انجلینا جولی کے نام نمایاں ہیں ۔
سائیکالوجی کی رو سے محبت کی بھی زبان ہوتی ہے ۔ اس پر درجنوں کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں ۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی محبت کو محسوس کرے ۔ اس کا ادراک رکھے ۔ عورت بہت سی باتوں کا اظہار کھل کر نہیں کرتی کیونکہ یہ بات اس کی جبلت میں شامل ہے اس لیے مرد کو چاہیے کہ عورت کے جذبات کا خیال رکھے اور اس کی باڈی لینگوئنج کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔

ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ کوئی بھی شخص کامل ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا اس لیے مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو خوبیوں خامیوں سمیت خوش دلی سے قبول کرے ۔ خوبیوں کی تعریف کرے اور خامیوں پر در گزکرے ۔ ہر ہفتہ کے اختتام پر بیوی کے ساتھ کسی پسندیدہ جگہ پر ڈنر کریں یا فلم دیکھیں ےا کسی پارک چلے جائیں ۔ اس عمل سے آپ کے رومانس کو جلا ملے گی اور آپ دونوں میاں بیوی دلی طورپرایک دوسرے کے مذید قریب آئیں گے ۔ بات چیت کرتے دوران یا تفریح کے وقت اپنا رویہ مثبت اور خوشگوار رکھیں ۔ خوشگوار موڈ تفریح کے لمحات کو دوبالا کر دے گا ۔ اگر کوئی سنجیدہ بات کرنی بھی ہو تو اسے کسی اور موقع پر چھوڑ دیں اس طرح آپ کی ہر تفریح ہی ےاد گار ہو گی اور اور آپ دونوں میاں بیوی کا تعلق مضبوط ہو گا ۔
سائیکالوجی کی رو سے تحفہ دینا محبت کی زبانوں میں سے ایک زبان ہے ۔ ضروری نہیں کہ تحفہ بہت قیمتی ہو ۔ کم قیمت تحفہ بھی اکسیر کا درجہ رکھتا ہے اگر اس کے ساتھ خلوص کی چاشنی شامل ہو ۔ دل سے نکلی ہر بات اثر رکھتی ہے ویسے بھی تحفہ محبت میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے ۔ عورت کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ اسے عزت اور محبت سے نوازا جائے ۔ عورت اس خاوند پر اپنی جان نچھاور کر دیتی ہے جو اس سے عزت اور محبت سے پیش آئے ۔ یاد رہے یہ بنیادی نکتہ ہے جسے ذہن میں بٹھانے کی ضرورت ہے ۔ بغیر عزت اور محبت کے گھر اجاڑ بیاباں ہوتا ہے گھر نہیں ہوتا ۔

جو مرد اپنی بیوی پر اعتماد کرتا ہے اور بھروسہ رکھتا ہے اس کا گھر جنت کا نظارہ پیش کرتا ہے جبکہ دوسری جانب جو مرد شکی اور وہمی ہوتے ہیں ان کا گھر دنیا میں ہی جہنم کا نمونہ پیش کرتا ہے اور ہر وقت آگ کی تپش جسموں اور روحوں کو جلاتی رہتی ہے ۔ اپنے اندر معاف کر دینے کا جذبہ پیدا کریں ۔ انسان غلطی کا پتلا ہے ۔ کہیں نہ کہیں اس سے غلطی سر زد ہو جاتی ہے ۔ اگر آپ کی بیوی سے کہیں کو ئی غلطی ہو جائے تو اسے تحمل سے سمجھائیے وہ سمجھ جائے گی ۔ غصہ میں اور بھڑک کر بات کرنے سے بات مذید بگڑ جاتی ہے سلجھتی نہیں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں