عمران خان بمقابلہ شہباز شریف

2018ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان زبر دست مقابلہ کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن نے نواز شریف کے نا اہل ہونے کی وجہ سے شہبا ز شریف کو میدان میں اتا را ہے تو دو سری جا نب عمر ان خان عدالتی فیصلے سے سُر خرو ہو نے کے بعد پوری طاقت سے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کو بے تا ب ہیں ۔ گزشتہ چند مہینوں سے مسلم لیگ ن اپنی قیادت کے حوالے سے گومگو کا شکار تھی ۔کبھی مریم نواز ، میاں نواز شریف کے جا نشین کی صورت میں منظرعا م پر آتیں توکبھی شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی سیاست کو آگے بڑھانے کی کو ششیں دکھائی دیتیں ۔ ایک طوفان بدتمیزی تھا جو ن لیگ کی صفحوں میں جا ری تھا لیکن اب یہ با ت واضح ہونے کے بعد کہ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جا نب سے شہباز شر یف وزیراعظم کے امیدوار ہو نگے ۔ مسلم لیگ کی سیاست میں ٹھہراؤسا آگیا ہے۔ اب وہ فصلی بٹیرے جو سیاسی ہلچل کی وجہ سے ادھر اُدھر بھاگنے کو تیار بیٹھے تھے کچھ دیر کے لیے سنھبل جا ئیں گے ۔ میرے ذاتی خیال میں شہباز شریف کو اس مو قع پر آئندہ الیکشن میں بطور وزیر اعظم پیش کرنا یقینی طورپر اسی سیاسی ہلچل کا شاخسانہ ہے۔
سوچنے کا امر یہ ہے کہ کیا مر یم نواز شریف مر کزی دائرے سے کچھ کھسک سی گئی ہیں یا یہ مسلم لیگ ن کا ایک حربہ ہے کہ الیکشن مہم شہبا ز شریف کی قیادت میں چلائی جا ئے ۔ لیکن الیکشن کے انعقاد کے بعد
مریم نواز کو وزیراعظم نا مزد کر دیا جائے ۔یہ ایک ایسی بحث ہے جو سیا سی حلقوں میں زورو شور سے جا ری ہے ۔کچھ لوگ اس با ت پر یقین رکھتے ہیں کہ آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جا نب سے شہبا ز شریف ہی حتمی وزیراعظم ہو نگے لیکن کچھ دیدہ ور ور سیاسی تجزیہ کا روں کا کہنا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مصداق شہبا ز شریف کو سا منے رکھ کر بعد میں مسلم لیگ ن کی کمان مریم نواز کے حوالے کر دی جا ئے گی۔ یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا کہ کس طبقہ فکر کی سوچ زیادہ مستند ہے۔اگر ہم اس با ت پر غور کر یں کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن کے لیے بطور وزیراعظم کو نسا امیدوار بہتر ہوگا تو یہ بات کسی ہچکچاہٹ کے بغیرکہی جا سکتی ہے کہ شہباز شریف ، نواز شریف کا خلا پرُ کر سکتے ہیں ۔
مریم نواز کو براہ راست وزیر اعظم کی کر سی پر بٹھانا کسی طور پر بھی منا سب نہ ہو گااور میرا گُمان ہے کہ مسلم لیگ ن یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ مر کز میں شہبا ز شر یف کو اتارا جا ئے اور پنجا ب مریم نواز کے حوالے کر دیا جائے ۔اور یوں لگتا ہے کہ آنے والے الیکشن میں مریم نواز پنجا ب کی وزارت اعلیٰ کی امیدوارہونگی ۔
اس ساری صور تحال کے ساتھ سا تھ مسلم لیگ کے لئے ابھی ایک اور امتحان با قی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سر براہ عمران خان کی مقبو لیت اور سا نحہ ما ڈل ٹاؤن کے اندھیرے سائے بھی مسلم لیگ ن کی راہ میں حائل ہیں ۔ عمران خان اور طاہرالقادری ایک مرتبہ پھر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مسلم لیگ ن کے لئے مزید مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری کی حالیہ ملاقات مسلم لیگ ن کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اگر طاہرالقادری اور عمران خان حقیقی طور پر ایک صف میں کھڑے ہو گئے اور کسی متفقہ ایجنڈے پر متفق ہو گئے تو مسلم لیگ ن کے لیے مشکلوں کا پہاڑ ثابت ہو نگے ۔ نواز شر یف کے نا اہل ہونے کے بعد مسلم لیگ ن زیرک سیاست دان شہبا ز شریف پر بھروسہ کر رہی ہے لیکن اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے تنا ظر میں شہباز شریف بھی سیاسی میدان سے فارغ ہو جا تے ہیں تو مسلم لیگ ن کے لئے یہ ایک بہت بڑا دھچکاہو گا ۔ اور مسلم لیگ ن کو بطور سیاسی جماعت بکھرنے میں ذرہ سی بھی دیر نہیں لگے گی ۔ عمران خان اور طاہرالقادری اپنی بھر پور کوشش کر یں گے کہ جس طرح نواز شریف کو عدالت کے ذریعہ ناک آؤٹ کیا گیا ہے اسی طرح شہباز شریف کو کسی عدالتی فیصلے کے ذریعے فارغ کر وادیا جائے ۔اور اس کے لیے ان کے پاس سانحہ ماڈل ٹاؤن کی صورت میں بھر پور مواد موجود ہے ۔
دوسری صورت میں اگر شہباز شریف سانحہ ما ڈل ٹاؤن کیس سے اپنا پیچھاچھڑواسکتے ہیں تو پھر مسلم لیگ ن کی سیاست میں ایک ایسی نئی روح داخل ہو جا ئیگی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ن الیکشن 2018جیتنے کی پوزیشن میں ہو گی۔کیونکہ شہباز شریف ایک متحرک وزیراعلیٰ کی صورت میں پہلے ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں انکو اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں اور اپنا پروگرام عوام کے سامنے پیش کرنے میں کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ وہ پنجاب میں ہونے والی ترقی کو بنیاد بنا کر عوامی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں اور انہیں اپنے اس مقصد کو اچھے طریقے سے انجام دینے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی اور وہ آسانی سے اپنے پروگرام کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اگر شہباز شریف کسی قانونی اور آئینی شکنجے میں نہ آئے تو ان کی حکمت عملی بڑی فعال اور جاندار ہو گی ۔ اور وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوے 2018 کا الیکشن بھی جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ اگرچہ یہ بات حتمی طور پر تو نہیں کہی جا سکتی مگر شہباز شریف بہرحال نواز شریف سے زیادہ چوکس ، مستعد اور بصیرت افروز ہیں ۔ان کی سیاسی چالیں دوسرے سیاسدانوں پر نہ صرف برتری لیے ہوے ہیں بلکہ وہ عوامی مقبولیت کے پروگرام ترتیب دینے میں بھی مہارت رکھتے ہیں
اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں قسمت کی دیوی شہباز شریف پر مہربان ہوتی ہے یا عمران خان مقدر کے شہنشاہ ٹھہرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں