مائنس نواز شریف

تحریر : عبدالرزاق چوہدری
نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کی صفوں میں ابھی تک ارتعاش جاری ہے ۔ نواز شریف کے سیاسی مستقبل کو لے کر تجزیوں اور تبصروں کا طومار ہے جو سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے ۔مسلم لیگ ن اس وقت تین دھڑوں میں منقسم ہے ۔ ایک گروہ وہ ہے جو ہمیشہ اپنے مفادات دیکھ کر اپنی رائے اور قبلہ کا رخ متعین کرتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مشرف دور حکومت میں ق لیگ میں تھے اور بعد ازاں آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر ن لیگ کا حصہ بن گئے جبکہ زیادہ تر تو الیکشن سے قبل ہی ق لیگ کو داغ مفارقت دے کرن لیگ کی صف میں شامل ہو گئے تھے ۔ یہ گروہ بڑا شاطر ، موقع پرست اور ہرجائی ہے ۔ مناسب موقع دیکھ کر کسی دوسرے سیاسی شجر کی ٹہنیوں پر بسیرا کرنا ان خودغرضوں کا وطیرہ ہے ۔ اقتدار کے ایوانوں میں ہلکی سی آنچ ملاحظہ کرتے ہی یہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں کسی مسلہ پر نام نہاد اصولی موقف اپنانے کی اداکاری کرتے ہیں اور اپنا ریٹ بڑھا کر حسب منشا شرائط کے تحت کسی دوسری جگہ اپنی سیاسی دوکان شفٹ کر لیتے ہیں ۔ یہ وہ سیاسی فصلی بٹیرے ہیں جو ہمیشہ موسم بہار میں ہی ساتھ دیتے ہیں خزاں رسیدہ ماحول میں ٹکنا ان کی سرشت میں شامل نہیں ہے ۔
مسلم لیگ میں دوسرا دھڑا وہ ہے جو شہباز شریف کے زیر سایہ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ وہ افراد ہیں جو شہباز شریف کی صلاحیت ، لیاقت اور مہارت سے مرعوب ہیں اور ان کے کام کرنے کے انداز کو بھی سراہتے ہیں اور ان کے وژن کے بھی دلدادہ ہیں ۔ یہ دھڑا نواز شریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے ۔ ان لوگوں کے خیال میں شہباز شریف ہی وہ واحد شخص ہیں جو نواز شریف کا خلا پر کر سکتے ہیں ۔
تیسرا گروپ نواز شریف کو ہر حال میں فعال دیکھنا چاہتا ہے اور وہ گروپ مریم نواز کی چھتر چھاوں تلے نواز شریف سے عقیدت کا دم بھرتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ یہ تینوں مکتبہ فکر کے لوگ اس وقت تک توایک ہی میان میں سموئے ہوے ہیں لیکن حالات کی نزاکت یہ احساس دلا رہی ہے کہ عنقریب ان دھڑوں میں ہلچل مچنے والی ہے اور غالب امکان ہے کہ اس ارتعاش کے نتیجے میں مسلم لیگ ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو نقشہ میں نے کھینچا ہے معمولی سیاسی شعور رکھنے والا شخص بھی اس صورتحال کو جانتا ہے اور سمجھتا بھی ہے ۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز اس بات سے بے خبر ہوں ۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ دونوں بھی ان حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اور پھر بھی شہباز شریف کو کھلم کھلا ن لیگ کی کمان سنبھالنے نہیں دے رہے تو اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ اقتدار کا نشہ قریبی سے قریبی رشتوں کی حرارت کو بھی مدہم کر دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے اقتدار کے حصول کی خاطر بیٹوں نے باپ کی پرواہ کی نہ بھائی نے بھائی کا خیال رکھا۔ مسلم لیگ ن کو پیش آمدہ حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوے ایک بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ شہباز شریف کے بغیر یہ جماعت تتر بتر ہو جائے گی اور اس کا شیرازہ اس طرح بکھرے گا کہ نواز شریف کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ شہباز شریف عوام میں نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں اور وہ آج تک مسلم لیگ ن کے لیے فعال کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ کچھ حلقوں میں تو اب یہ بحث چل نکلی ہے کہ خاقان عباسی نواز شریف کی نسبت زیادہ فعال اور کامیاب وزیر اعظم ہیں ۔ دونوں کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور بطور وزیر اعظم خاقان عباسی کو بہتر وزیراعظم کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے ۔در اصل یہ بات مریم اور نواز شریف کے ذہن میں راسخ ہو جانی چاہیے کہ طویل اقتدار شہباز شریف کے مرہون منت ہے اور آئندہ بھی اگر اقتدار کے ایوانوں کی سیر کرنی ہے تو وہ صرف شہباز شریف کے طفیل ہی ممکن ہے ۔
میرے خیال میں اگر شہباز شریف مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے اپنا سیاسی سفر شروع کرتے ہیں اور نواز شریف سائیڈ لائن ہو جاتے ہیں تو مسلم لیگ کو فائدہ ہو گا ۔ کیسے ؟ آیئے اس پہلوکو باریک بینی سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کے علیحٰدہ ہونے سے مسلم لیگ کے ووٹ بینک میں کمی ہو گی ۔ مسلم لیگ زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر پائے گی ۔ یہ قطعی باطل خیال ہے ۔ میں پہلے کہہ چکا شہباز شریف نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں ۔ بے شک سروے کر کے دیکھ لیجیے اور یہ نیک کام مسلم لیگ ن خود بھی کر سکتی ہے اور پھر نواز شریف بمع مریم نواز کوسمجھ آ جائے گی کہ شہباز شریف کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ہی مسلم لیگ کو موجودہ مقبولیت حاصل ہے۔

شہباز شریف کے ن لیگ کی کمان سنبھالتے ہی مذید فائدہ یہ ہو گا کہ اس جماعت کے فوج کے ساتھ تعلقات میں بھی خوشگوار تبدیلی رونما ہو گی ۔ ماضی میں بھی نواز شریف اور شہباز شریف کے فوج سے تعلقات کی نوعیت مختلف رہی ہے ۔ شہباز شریف ہمیشہ فوج سے اچھے تعلقات کے متمنی رہے جبکہ نواز شریف کا نقطہ نطرہمیشہ اس کے بر عکس رہا ۔ تیسرا پہلو جو بہت اہم بھی ہے اور میری دانست میں ملین ڈالر مشورہ بھی ہے کہ آئندہ انتخابات میں شہباز شریف کو مسلم لیگ بطور وزیر اعظم تیار کرے اور مریم نواز کو وزارت اعلیٰ پنجاب کی کرسی کا چہرہ دکھائے ۔ اس طرح مسلم لیگ ن ایک تیر سے دو شکار کر سکتی ہے ۔ مسلم لیگ منظم بھی رہے گی اور مریم صاحبہ کی اقتدار کے ایوان تک رسائی کی خواہش بھی پوری ہو جائے گا ۔ یہ سب ممکن ہے اگر موجودہ صورتحال میں نواز شریف تدبر، تحمل ،بردباری اور بصیرت کا دامن تھام لیں اور اپنے بھائی پر کامل بھروسہ کرتے ہوے اپنی بقیہ زندگی گوشہ نشینی میں بسر کریں ۔اس طرح ایک وفادار بھائی نہ صرف مسلم لیگ ن کے اقتدار کے مذید طول کا سبب بنے گا بلکہ اپنی بھتیجی کے من میں پنپتتے اقتدار کے خواب کو بھی عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہو گا ۔ اور اگر نواز شریف نے روائیتی انا کو ملحوظ خاطر رکھا تو عین ممکن ہے نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری کے مصداق مسلم لیگ ن اقتدار کے میدان سے ہمیشہ کے لیے آوٹ ہو جائے۔ میاں صاحب نازک موقع ہے اپنی معاملہ فہمی حس کو بیدار کیجیے اور حسب حال صائب اقدام اٹھا دیجیے جو نہ صرف مسلم لیگ ن کے لیے بلکہ ملک و قوم کے لیے بھی بہتر ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں