مریم صاحبہ ۔۔ جیت ہمیشہ اچھی نیت والوں کی ہوتی ہے

تحریر : عبدالرزاق چوہدری

اس بات کا برملا اظہار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ گذشتہ تیس سالوں سے پاکستانی سیاست میں جو حیثیت،مرتبہ اور مقام شریف خاندان کو نصیب ہوا وہ تا حال کسی اور کے حصہ میں دیکھنے کو نہیں ملا۔پاکستان کے کونے کونے سے میاں نواز شریف کے چاہنے والے ووٹرز اور سپورٹرز ہمیشہ انہیں قومی الیکشن میں سرخرو کرتے رہے اورسیاسی تبصرہ نگاروں و تجزیہ کاروں کو سرپرائز سے نوازتے رہے ۔ناقابل یقین خوش قسمتی کے حامل اس خاندان نے بلاشبہ پاکستان کے سیاسی افق پر راج کیا۔اگر کوئی کڑا وقت آیا تو تب بھی قسمت نے یاوری کی اور یہ خاندان پہلے سے بھی زیادہ تکریم کے ساتھ اقتدارکے ایوان میں براجمان ہوا ۔
میاں نواز شریف نے جب سیاست کی بساط پر قدم جمائے تو پھر کبھی پلٹ کر نہ دیکھا ۔ عزت،شہرت اور دولت گویا گھر کی باندھی بن گئی اور اک مدت سے عوامی محبت کی دلکش مالا بھی ان کے گلے کا ہار ہے ۔اور پھر جب شہباز شریف بھی سیاست میں آن وارد ہوے تو گویا ان کی آمد تو سونے پہ سہاگہ ثابت ہوئی ۔شہباز شریف کی نواز شریف کے قدموں سے قدم ملانے کی دیر تھی کہ مسلم لیگ اور اس خاندان کی سیاسی پتنگ نیلگوں آسمان تک پرواز کر گئی ۔اور سچ بات ہے کہ جب وزارت اعلیٰ پنجاب کی کرسی کو شہباز شریف کے ہاتھ لگے تو مسلم لیگ کو مقبولیت کے مذید ٹیگ لگ گئے ۔مذید براں عوامی محبت کے علاوہ قومی اداروں کی ہمدردیاں بھی ہمیشہ اس خاندان کے ساتھ وابستہ رہیں اور مد مقابل پیپلز پارٹی کو ہمیشہ ٹیڑھی آنکھ سے ہی دیکھا جاتا رہا ۔ مگر اس کڑوے سچ کو بھی نگلنا ہو گا کہ سدا نہ باغیں بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں کے مصداق بالآخر اس خاندان سے بھی ایسی غلطیاں سر زد ہونے لگیں جس نے اس خاندان کی عظمت کو گہنا دیا اور نواز شریف کے اپنے ہی گھر سے اس مقبولیت کو نقب لگانے والے پیدا ہو گئے ۔میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے دل میں بے نظیر بننے کی خواہش مچلنے لگی اور انہوں نے سیاسی سرگر میوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی جانب سے ایسے ایسے آتش افروز ٹویٹ منظر عام پر آئے جنہوں نے نواز شریف کی تیس سالہ جدوجہد پر پانی پھیر دیا ۔عزت و احترام کے سائبان میں چھید ہو گئے حتیٰ کہ وہ ادارے جو ہمیشہ میاں صاحب کے ساتھ دکھائی دئیے اس مرتبہ اک نئے رنگ و روپ میں سامنے آئے ۔ ایک جانب عدالتی فیصلے کی بدولت کرپشن کا داغ ماتھے کا کلنک بنا تو دوسری جانب مودی سے دوستی کے سبب حب الوطنی پر بھی سوال اٹھنے لگے ۔غور کرنے پر یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ مریم صاحبہ نے جب جب کوئی شگوفہ چھوڑا تب تب نواز شریف کے وقار پر آنچ ضرور آئی ۔مریم صاحبہ اس بات پر غور کریں نہ کریں لیکن سچ یہی ہے کہ ان کی ناپائیدار سیاسی سرگرمیاں ہمیشہ نواز شریف حکومت کے لیے مسائل پیدا کرتی رہیں اور بالآخر ان سرگرمیوں کا نتیجہ نواز شریف کی اقتدار سے چھٹی پر منتج ہوااور اب شاید یہ صورتحال نواز شریف کی قید یا جلا وطنی تک پھیل جائے ۔ دوسری جانب نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کا بھی سیاست میں کردار کلیدی ہے ۔ ان دونوں کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انہوں نے نواز شریف کی سیاست کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ان کی سیاست کو آگے بڑھانے میں معاونت کی ۔ میاں شہباز شریف پنجاب میں ہونے والی مسلم لیگ ن کی سیاسی سرگرمیوں کا منبع ہیں اور حمزہ شہباز لاہور کی سیاست پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔لیکن گذشتہ کچھ عرصہ میں کچھ یوں ہوا کہ حمزہ شہباز اور مریم نواز میں اقتدار کے حصول کے لیے سرد جنگ کا آغاز ہو گیا اور اس کھینچا تانی کی خبریں میڈیا پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئیں ۔ مریم نواز کو نواز شریف کی آشیرباد حاصل ہو گئی اور حمزہ شہباز پس پشت دھکیل دئیے گئے بلکہ کھڈے لائن لگا دیے گئے یا امکان ہے کہ وہ دل برداشتہ ہو کر خود ہی کنارہ کش ہو گئے ہوں اور مریم کھلے میدان میں سیاسی چوکے چھکے لگانے میں مگن ہو گئیں ۔ لیکن مریم اس بات کو بھول گئیں کہ جب تک انسان کا تخلیق کردہ پلان قدرت کے ڈیزائن کردہ پلان سے مطابقت نہ رکھتا ہو حسب منشا نتیجہ برآمد نہیں ہوا کرتا ۔مریم نواز کا ترتیب دیاہوا پلان قدرت کے پلان سے متصادم نکلا اور پھر مریم نواز سے ایسی ایسی غلطیاں سر زد ہوئیں کہ اقتدار کا ہما ان سے دور سے دور ہوتا چلا گیا اور اب تو شاید یہ آوٹ آف رینج ہو چکا ہے ۔کل تک اقتدار کا خواب دیکھنے والی مریم نواز ان دنوں جیل سے بچنے کی تدبیر کر رہی ہیں اور دوسری جانب قدرت کے مرتب کردہ پلان کے عین مطابق میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پاکستان کے سیاسی افق پرچمک دمک رہے ہیں۔میں اپنی معمولی سی سیاسی بصیرت کے بل بوتے پر یہ کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا کہ 2018 کے انتخابات میں نواز شریف اور مریم کا کردار ثانوی ہو گا جبکہ میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا کردار کلیدی ہو گا ۔ آخر میں مریم صاحبہ کی خدمت میں مذید یہ عرض کروں گا کہ جیت ہمیشہ اسی کی ہوتی ہے جس کی نیت صاٖ ف ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں