عزم صمیم کا ثمر

عبدالرزاق چوہدری
آپ کو بھوک لگی ہو اور کوئی آپ کو مچھلی کھلا دے ۔اور یہ سلسلہ یونہی ماہ و سال چلتا رہے تو آپ کو مفت مچھلی کھانے کی عادت ہو جائے گی۔نتیجتا” آپ ساری زندگی مفت مچھلی کی تلاش میں ذلیل و خوار ہوتے رہو گے۔مفت کی لذتوں کے اسیر ہو کر comfort zone کی نذر ہو جاو گے۔ نکمے،نکھٹو ،بیکار اور ناکارہ ہو جاو گے ۔comfort zone ایک ایسی دلدل ہے جس کے چنگل سے بچ نکلنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ترین عمل ضرور ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں آپ اپنی تمام تر ناکامیوں کاذمہ دار مچھلی کھلانے والے کو ٹھہراو گے کیونکہ اس نے آپ کو مچھلی کھلائی ضرور مگر پکڑنا نہیں سکھائی۔ترقی کے راستے میں حائل ہر رکاوٹ اور مزاحمت کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالو گے۔اور یہی وہ منحوس گھڑی ہے جب آپ جعلی اور نام نہاد پیروں،فقیروں اور بابوں کے آستانوں پر حاضریاں دو گے جو آپکے معصوم جذبات سے کھل کر کھلواڑ کریں گےاور آپ ان کی دعاوں اورخوشنودی کی خاطر ان کے جوتے تک چاٹنے پر مجبور ہو گے کیونکہ آپ کی دانست میں آپکے مسلہ کا حل ان کے پاس موجود ہے۔لیکن پھر بھی ناکامی،مایوسی اور نامرادی کا سائن بورڈ آپ کا منہ چڑھا رہا ہو گا۔اس comfort zone یعنی اس دلدل میں جو پھنس گیا کوشش کے باوجود نیچے ہی نیچے دھنستا چلا جاتا ہے۔دماغ کے کینوس پر ابھرنے والے منفی خیالات کی یلغار سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کر لیتی ہے اور قابلیت ہونے کے باوجود آرام طلبی کی لعنت کا شکار ہونے کی وجہ سے کامیابی اک خواب معلوم ہوتی ہے۔اس comfort zone کو صرف ایک وصف مات دے سکتا ہے اور وہ ہے آپ کی قوت ارادی۔آپ آرام طلب کیفت کے اس عفریت سے تبھی نکل سکتے ہو جب آپکا ارادہ فولادی ہو۔آپکی ہمت لاجواب ہو۔آپکی نظر منزل پر ہو۔آپ ہر مزاحمت ،رکاوٹ،دکھ اور پریشانی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عزم صمیم کے گھوڑے پر سوار ہو جائیں تو بڑے سے بڑا خواب تعبیر کی صورت آپکی نگاہوں کے سامنے محو رقص ہو گا۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
جب انسان کا عزم کرتا ہے جست
بلند آسمان کو سمجھتا ہے پست
اولوالعزم کا رخ جدھر ہو گیا
زمانہ ادھر سے ادھر ہو گیا۔
چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا ہے کہ آئن سٹائن کو سکول سے صرف اس لیے خارج کر دیا جاتا ہے کہ اس کی نالائقی اور نا اہلی کے اثرات دوسرے بچوں پر مرتب نہ ہوں۔لیکن اس واقعہ کا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ آئن سٹائن بھر پور محنت کرنے کی ٹھان لیتا ہےاور دیکھتے ہی دیکھتے اس مقام کو پہنچ جاتا ہے جہاں وہ پوری دنیا کی نطروں میں سرمایہ افتخار کی حثیت اختیار کر لیتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ سکندر اگر عزم صمیم کے برق رفتار گھوڑے پر سوار ہو جائے تو آدھی دنیا فتح کر لیتا ہے۔تیمور نامی اک گڈریا پختہ ارادے کے بل بوتے پر کیسے تخت و تاج کا مالک بن جاتا ہے اور بابر ایسا جوانمرد غیر متزلزل عزم کی بدولت بلندوبالا پہاڑوں کو سرنگوں کرتے ہوے ،راستے میں حائل دریاوں کا سینہ چیرتے ہوے ہندوستان کی سرزمین پر نسل در نسل حکومت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں