کامیابی کا دشمن … خوف

عبدالرزاق چوہدری
وہ ایک ایسا نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں کچھ کر دکھانے کی چمک تھی۔ اس کے اندر کامیاب ہونے کی تڑپ بھی موجودتھی۔ محنتی، قابل اور ایماندار بھی تھا لیکن اسکےساتھ ایک مسلہ تھا۔ایک انجانا سا خوف اس کے ساتھ ساتھ تھا ۔یہ خوف اس کے بچپن کا ساتھی تھا۔ جواب فوبیا بن کر اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔اس خوف کی بنیادی وجہ اسکے بچپن میں والدیں کی جانب سے وہ روک ٹوک تھی جس کو اپنی دانست میں وہ تربیت کا بہترین انداز سمجھتےتھے۔اس نے پچسویں سال میں قدم رکھا ہی تھا کہ اس کے ماں باپ ہمیشہ کے لیے فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ذمہ داریوں کا بوجھ اس کے سر آن پڑا۔اس نے کاروبار کرنے کاپلان بنایا۔جو کچھ اسے وراثت میں ملا تھا اس نے کاروبار میں انویسٹ کر دیا۔ وہ اب ایک بزنس مین تھا۔ اور وہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا کہ اگر کاروبار کامیاب نہ ہوا تو کیا ہو گا ۔اس خوف کی وجہ سے اس کے اندر ایک سمارٹ بزنس مین کی خصوصیات ہی پیدا نہ ہو سکیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا بزنس جمود کا شکار ھو گیا ۔ان ہی الجھنون کا بوجھ اٹھائے ،سکون کی تلاش میں وہ قریبی پارک چلا گیا ۔ وہ اداس،غمگین اور پریشان حال ایک بینچ پر بیٹھا تھا کہ ایک آدمی اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے بزنس مین سے پریشانی کا سبب پوچھا تو بزنس مین نے من و عن اپنا مسئلہ بیان کر دیا۔اس آدمی نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے رئیس کے طور پر متعارف کروایا اور جیب سے چیک بک نکالی ، چیک پر پانچ کروڑ روپے کا اندراج کیا اور سائن کر کے بزنس مین کو تھما دیا۔ اس آدمی نے بزنس مین سے کہا ۔ آئندہ سال اسی جگہ اور اسی وقت دوبارہ ملاقات ہو گی اور تم یہ رقم مجھے واپس کر دینا۔ تمھیں جب ضرورت محسوس ہویہ رقم استعمال کر لینا ۔ یہ کہہ کر وہ آدمی وہاں سے چلا گیا ۔ بزنس مین بھی اٹھا اور اپنے گھر آ گیا ۔اب بزنس مین سوچنے لگا اس کے پاس پانچ کروڑ کی خطیر رقم موجود ہے،اب ڈر کس بات کا۔ ضرورت پڑنے پر میں اس رقم کو استعمال کر لوں گا۔اور جونہی وہ خوف سے آزاد ہوا اس کے اندر ایک نئے بزنس مین نے جنم لیا اوراس کی زندگی میں اک نیا جوش اور جذبہ پیدا ہو گیا۔وہ ہر کام بڑی محنت،لگن اور خوش اسلوبی سے کرنے لگا۔وہ ہر گاہک سے محبت،خلوص اور اعتماد سے لین دین کرنے لگا ۔کچھ ہی دنوں بعد اس کا کاروبار چمک اٹھا اور اسے مذید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ سال کا اختتام ہوا تو بزنس مین چیک لے کر اسی جگہ،اسی وقت پنہچ گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ آدمی بھی آ گیا جس نے اسے چیک دیا تھا ۔بزنس مین نے اس کا شکریہ ادا کیا اور چیک اسے واپس کر دیا ۔اسی اثنا میں کچھ لوگ وہاں آئے اور انہوں نے اس آدمی کو دبوچ لیا اور زبردستی ساتھ لیجانے کی کوشش کرنے لگے ۔بزنس مین نے ان لوگوں سے پوچھا آپ کیوں ایسا کر رہے ہوتو انہوں نے بزنس مین کو بتایا کہ یہ آدمی پاگل ہے روزانہ اس وقت ہسپتال سے بھاگ آتا ھے۔اپنے آپ کو بہت امیر آدمی سمجھتا ہے اور لوگوں میں چیک بانٹتا رہتا ہے۔
ذرا غور کریں کس طرح ایک پاگل انسان اور جعلی چیک نے بزنس مین کا خوف دور کر دیا اور خوف دور ہونے پر بزنس مین کی خود اعتمادی بحال ہو گئی اور اس کا کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے لگا۔لھٰذا فیصلہ کر لو جو بھی کاروبار کرو بے خوف ہو کر کرو کیونکہ خوف کی موجودگی میں انسان کچھ سیکھ نہیں پاتا کچھ کر نہیں پاتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں