ٹائی ٹینیک بحری جہاز

ٹائی ٹینیک جہاز انسانی محنت ، مہارت ، مشقت اور سائنس کا نادر نمونہ تھا۔ یہ جہاز 269 میٹر لمبا اور 53.3 میڑ اونچا تھا۔ اس کا پورا نام Royal Mail Ship Titanic
تھا۔ جس کی تیاری 1909ء میں شروع ہوئی اور 1912ء میں مکمل ہوئی۔ اس کی تیاری کے دوران دو مزدور بھی ہلاک ہوئے۔لیکن یہ اپنے پہلے ہی سفر میں سمندر میں ڈوب گیا۔ جو اس نے 10 اپریل 1912ء کو شروع کیا تھا۔
ٹائی ٹینیک جہاز ایک مشہور برطانوی مسافر بحری جہاز تھا جواپنے پہلے ہی سفر کے دوران ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھااس حادثے میں ہلاک ہونے والے٭1512 ٭افراد شامل تھے۔ٹائٹینک نے امریکی شہر نیویارک کے لیے اپنے سفر کا آغاز برطانوی شہر ساؤتھمپن سے 10 اپریل1912ءکو کیا تھا اور یہ شمالی بحر اوقیانوس میں ڈوب گیا۔اسکا ملبہ اب بھی سمندر میں3800میٹر گہرائی میں موجود ہے۔ اپنے سفر کے آغاز کے چوتھے اور پانچویں روز کی درمیانی شب اس میں سوار 1512 مسافر وں کی زندگی کا چراغ اس وقت گُل ہوگیاجب یہ سمندر کا بادشاہ برف کے گالے سے ٹکرا کر دوٹکڑے ہوگیا۔ لائف بوٹس کے ذریعے ٹائی ٹینیک کے صرف 724 مسافرزندہ بچ پائے۔ چونکہ اس کے متعلق یہ ہی مشہور تھا کہ یہ کبھی نہیں ڈوبے گا ۔ اس لئے اس پر زندگی بچانے والی کشتیاں بہت کم رکھی گئی تھیں۔ اگر لائف بوٹس زیادہ ہوتی تو سارے لوگ بچ سکتے تھے۔ کیونکہ اس جہاز کو ٹکر کے بعد ڈوبنے میں تقریبا اڑھائی گھنٹے لگے تھے۔کہا جاتا ہے مرنے والوں کی تعداد 1512 سےبھی کافی زیادہ تھی کیونکہ جن لوگوں کی جہاز کے عملے سے جان پہچان تھی۔ان میں سےبھی بہت سے لوگ ٹکٹ کے بغیر اس پر سوار ہو گئے تھے جن کا کوئی ریکارڈہی موجود نہیں۔
برف کے تودے سے ٹکراتے ہی جہاز میں پانی بھرنے لگا اور یہ ڈوبنے لگا اس جہاز پر جیک فلپس نام کا ایک افسر لاسکی آلات پر مامور تھا اس نے فوراً SOS نامی پیغام ایک انتہائی طاقتور آلے کے ذریعے بھیج دیا یہ پیغام سب سے پہلے”ورجینن“ نامی جہاز کو موصول ہوا یہ جہاز انتہائی تیز رفتاری سے تباہی کے مقام کی طرف روانہ ہوگیا۔ فلپس متواتر SOSکے پیغامات بھیجتا رہا اور آخری کشتی کی روانگی تک اس کی تگ ودو جاری رہی ۔
فلپس کی اس جوانمردی کی بدولت 724آدمی پیغام موصول کر کے مدد کےلئے پہنچنے والے جہازوں نے بچا لئے۔ جنہیں اس نے امداد کےلئے پکارا تھا ۔ لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہ بچا سکا۔ ٹائی ٹینک جہاز کی تباہی کا اہم ترین نتیجہ یہ نکلا کہ برطانوی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق ہر جہاز کےلئے لاسکی کا انتظام لازمی قرار دے دیا گیا ۔ ٹائی ٹینک جہاز کو لاسکی آلات سے مزین کرنے والی شخصیت کا نام گولی ایلمومارکونی تھا ۔ مارکونی نے بغیر تار کے ذریعے پیغامات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کارنامہ 1894میں انجام دیا۔ گولی مارکونی اٹلی سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی ایجادات نے بحری جہازوں کے سفر کرنے والے لوگوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا ۔ یہ عظیم شخصیت برطانیہ سے لیکر امریکہ تک ایک انقلاب برپا کر گئی ۔ اپنی انہیں ایجادات کی بدولت دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ اس سے ملنے کےلئے مشتاق تھے ۔ ان میں زارروس ، قیصر ولیم ، ملک وکٹوریا، ایڈورڈ ہفتم ، جارج پنجم ، تھیوڈور روز ویلٹ ، ولسن ، اٹلی کے بادشاہ اور ملکہ شامل ہیں۔ان لوگوں سے ملنے کےلئے مارکونی نے کبھی خواہش کا اظہار نہ کیا۔ بلکہ یہ لوگ خود مارکونی سے ملنے کو ایک اعزاز سمجھتے تھے یہ عظیم سائنس دان 1937ءمیں وفات پا گیا۔
جبکہ بعض محققین کا یہ بھی کہنا ہےکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک چھوٹے جہاز کے عملے نے راستے میں آ جانے والے برفانی تودوں کی اطلاع ٹائی ٹینک کے عملے کو ریڈیو پیغامات کے ذریعے دی تھی مگر؟ اس جہاز کے عملے نے ان چھوٹے جہاز والوں کی بات کو خاطر میں لائے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ جو اس جہاز کا آخری سفر بن ثابت ہوا۔
ٹائی ٹینیک جہاز سے بچنے والوں میں سےکمپنی کا مالک “اسمے “بھی شامل تھا جو خواتین اور بچوں کوڈوبتے جہازکو چھوڑ کر ایک کشتی کے ذریعے نکل گیا۔ اس خود غرضی پر وہ پوری زندگی نفرت کا نشانہ بنا رہا ۔اسے ” ٹائی ٹینک کا بزدل ترین شخص کہا جاتا تھا۔“اس کا نام
”Brute Ismy“
تھا۔” اسمے “اکتوبر 1937ءکو گوشہ تنہائی میں چل بسا۔ دوسری طرف جہاز کا پائلٹ ایڈورڈ جان سمتھ بیشترعملے کے ساتھ خواتین اور بچوں کو بچانے کی کوشش میں خود ڈوب کر انسانیت پر احسان کر گیا۔وہ آخری آدمی تھا جس نے جہاز سے چھلانگ لگائی تھی ۔اس کے بارے میں لائف بوٹ کے چلانے والے نے بتایا تھا کہ ایک آدمی آخری کشتی کی طرف تیرتے ہوئے لپکا تو ایک مسافر نے کہا ”یہ پہلے ہی اوور لوڈہے“ اس پرتیراک پیچھے ہٹ گیا اور کہا
“All right boys. Good luck and God bless you”
” ٹھیک ہے دوستوں! خدا تمہاری حفاظت کرے۔”
یہ جہاز کا پائلٹ 62 سالہ ایڈورڈجان سمتھ تھا۔دوسروں پر اپنی جاں نچھاور کرنے کے عظیم جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے اس کا مجسمہ سٹیفورڈ میں نصب کیا گیا ہے۔
اس جہاز کے بارے میں اس کی تیاری مکمل ہونے پراخبار میں آرٹیکل چھپا تھا۔کہ کبھی نہ ڈوبنے والا بحری جہاز تیا ر ہوگیا ہے۔اور اس کے مالک نے تو یہ دعویٰ کردیا تھا ”اسے طوفانِ نوح توکیا ،خدا بھی نہیں ڈبوسکتا“ یہ وہ دعویٰ تھا۔ جو لنگر اٹھانے کے موقع پر اسکے مالک “بروٹے اسمے” نے کیا تھا۔ اس نے ٹائی ٹینک کو جدید ، خوبصورت، آرام دہ،پرتعیش اور مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ اگر خدا کا نام لے کر سمندر میں کشتی ڈال دی جائے تو وہ منہ زور موجوں سے بچ کر نکل سکتی ہے۔ تکبر سے سمندر میں اتاراجانے والادیو ہیکل جہاز بھی ممکن ہے کنارے نہ لگ سکے۔ یہی کچھ ٹائی ٹینک کے ساتھ ہوا۔
حال ہی میں ایک نئی تحقیق بھی ہوئی جس میں محققین نے دعوی کیا ہے کہ ٹائی ٹینیک جہاز کے ڈوبنے کی اصل وجہ چاند تھی۔ برطانوی سائنس دانوں نے اس نظریے کو چیلنج کیا ہے جس میں ٹائٹینک کے ڈوبنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ 1912 میں شمالی بحرِ اوقیانوس میں معمول سے کہیں زیادہ برفانی تودے موجود تھے۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف شیفلیڈ کے ’ویدر‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔
برف کے جس تودے سے ٹائٹینک ٹکرایا تھا اسے 14 اپریل 1912 کی درمیانی رات کو صرف اسی وقت دیکھاگیا جب جہاز اس سے صرف پانچ سو میٹر قریب پہنچ گیا تھا۔ یہ فاصلہ اتنا کم تھا کہ جہاز کو روکا یا اس کا رخ موڑا نہیں جا سکتا تھا۔ ٹکر کے بعد بحری جہاز کے عرشے کا سو میٹر کے قریب کا حصہ ٹوٹ کر پانی میں گرگیا اور پورا بحری جہاز اڑھائی گھنٹے کے اندر اندر غرقاب ہو گیا۔
حادثے کے بعد کے دنوں میں بحراوقیانوس میں برف کے تودوں کی معمول سے زیادہ موجودگی کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت امریکی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ نسبتاً گرم موسم کی وجہ سے اس علاقے میں برف کے زیادہ تودے موجود تھے۔ حادثے سے کچھ دن قبل تیز ہواؤں اور سمندری لہروں کی وجہ سے برف کے یہ تودے عام برسوں کی نسبت زیادہ جنوب کی طرف بہتے چلے گئے۔
اس کے بعد سے محققین یہ جاننے میں کوشاں ہیں کہ شمالی بحراوقیانوس میں بڑی تعداد میں برف کے تودے پائے جانے کی وجہ کیا تھی۔ ایک امریکی تحقیقی گروپ کے مطابق یہ سمندری لہریں اس وقت زیادہ ہوتی ہیں جب چاند کا زمین سے فاصلہ کم ہوتا ہے۔ اور ان کے مطابق انھی لہروں کے باعث گرین لینڈ سے برف کے گلیشیئر ٹوٹ ٹوٹ کر سمندر میں شامل ہوتے رہے اور یہی بات ٹائی ٹینیک کے حادثے کا سبب بنی۔انھوں نے یہ حساب بھی لگایا ہے کہ جس تودے سے ٹائٹینک ٹکرایا، وہ 1911 کی خزاں میں جنوب مغربی گرین لینڈ کے گلیشیئروں سے الگ ہوا تھا۔ یہ تودہ 500 میٹر طویل اور 300 میٹر اونچا تھا۔
یہ جہاز آج بھی سمندر کی گہرائی میں پڑا ہوا ہے۔ ٹائی ٹینیک جہاز تک پہچنے کےلئے آپ کو تقریبا 4 کلومیٹر سمند ر کے نیچے جانا ہو گا۔ جو کہ ناممکن ہے کیونکہ سمندر میں آپ جتنی گہرائی میں جاتے ہیں۔ اتنا ہی پانی کا پریشر زیادہ ہوجاتا ہے۔آج تک کوئی غوطہ خور ٹائی ٹینیک تک نہیں پہنچ پایا۔ یہ ڈسکوری ایک غوطہ خور گاڑی کے ذریعے ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے تقریبا 73 سال بعد(یعنی 1985ء میں) ممکن ہو پا

اپنا تبصرہ بھیجیں