چند معلومات کرسٹوفر کولمبس کے بارے میں

دلچسپ معلومات پیج کے چند دوستوں کی فرمائش پر کرسٹو فر کولمبس کی کچھ تاریخ حاضر خدمت ہے۔ ویسے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لیف ایرک سن کولمبس سے کوئی پانچ سو سال پہلے شمالی امریکا پہنچ گیا تھا۔ اور مسلمان بھی کولمبس سے پہلے امریکہ پہنچ گئے تھے ۔ جس کی وجہ کولمبس کا امریکہ کی پہاڑی پر مسجد کی موجودگی کا اشارہ ہے۔اور بعض کے نزدیک مارکونی نے امریکہ دریافت کیاتھا۔ لیکن اکثر لوگوں کے نزدیک نئی دنیا کی دریافت کا سہرا کولمبس ہی کے سر ہے۔
کرسٹوفر کولمبس ایک بحری مہم جو تھا جس نے 15 ویں صدی میں امریکہ کو دریافت کیا۔ وہ 1451ء میں جنوا اٹلی میں پیدا ہوا۔ سپین کے قشتالوی عیسائی حکمرانوں کی ملازمت میں رہا۔ ملکہ ازابیلا اور فرڈینینڈ نے اسے چھوٹے جہاز دئیے جن سے اس نے 1492ء میں امریکہ دریافت کیا۔ کولمبس کی اس دریافت نے دریافتوں، مہم جوئی اور نوآبادیوں کا ایک نیا سلسلہ کھولا اور تاریخ کے دھارے کو بدل دیا۔
چودہ سال کی عمر میں بحری زندگی کا آغاز کیا اور بحیرہ روم، ازورس اور شمالی سمندروں کا سفر کیا۔ 1474 میں اس نے مغرب کی طرف سفر کرکے ہندوستان پہنچنے کا ارادہ کیا اور اس غرض کے لیے یورپ کے بعض شاہی درباروں سے مالی امداد کا طالب ہوا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ آخر 1496ء میں ہسپانیہ کے بادشاہ فرڈننڈ اور اس کی ملکہ ازابیلا اس کی مدد پر آمادہ ہوگئے اور وہ اسی سال 3 اگست کو ہیولوا کے مقام سے روانہ ہوگیا۔ سانتا میریا اس کا اپنا جہاز تھا اور اس کے ساتھ نینا اور نپٹا دو اور چھوٹے چھوٹے جہاز بھی تھے۔جزائر کینیری میں تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد یہ لوگ 6 ستمبر کو مغرب کی طرف روانہ ہوئے اور 12 اکتوبر کو انہیں جزائر بہاما کا مقام سان سا لویڈور نظر آیا۔ کولمبس نے اتر کر فرڈی نینڈ اور ازابیلا کے نام سے ان جزائر پر قبضہ کرلیا اور تاریخ کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ ان مہموں میں کولمبس نے بڑی دولت فراہم کی اور بڑا نام پیدا کیا۔ آخری سفر کے دو سال بعد 20 مئ 1506 کو ویلاڈولڈ کے مقام پر اس کا انتقال ہوگیا۔
کولمبس کو دفنانے کے حوالے سے بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں۔کرسٹوفر کولمبس نے اپنی وصیت میں کہا تھا کہ اس کو امریکہ میں دفن کیا جائے۔ لیکن 1506 میں امریکہ میں کوئی خاطر خواہ چرچ موجود نہیں تھا اس لیے اس کو ابتدائی طور پر سپین کے شہر میں دفنایا گیا۔ بعد میں سیول کے مقام پر دفنایا گیا۔ سنہ 1542 میں اس کی لاش کو نکالا گیا اور سینٹو ڈومنگو (جو آج کل ڈومینکن ریپبلک ہے) میں دفنایا گیا۔ سترہویں صدی کے آخر میں سپین کے کچھ حصے پر بشمول سینٹو ڈومنگو پر فرانس کا قبضہ ہو گیا۔ کرسٹوفر کی لاش کو نکال کر کیوبا لایا گیا۔ جب کیوبا نے آزادی حاصل کی تو اس کی لاش کو 1898 میں سیوِل کے کتھیڈرل میں دفنایا گیا۔ ۔ تاہم ڈومینکن ریپبلک میں کولمبس کی باقیات ایک بکس میں ہیں۔ جس میں اس کی ہڈیاں ہیں جن پر لکھا ہے ’کرسٹوفر کولمبس‘۔ سائنسدانوں نے سیوِل میں جو لاش دفن کی گئی ہے اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا تو معلوم چلا ہے کہ وہ کولمبس کے بھائی ڈی ایگو کی ہے۔ دوسری جانب ڈومینکن ریپبلک میں لاش کا ڈی این اے کبھی نہیں لیا گیا۔
امریکہ اور یورپ میں آج بھی کولمبس کی یاد میں مجسمے آویزاں ہیں۔ اور امریکہ میں یورپین کی آمد والے دن کو یاد گار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اور کولمبس کو بطور ہیرو اس پر خوب مقالے لکھے جاتے ہیں۔جس میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا جات ہے۔ لیکن میری طرح تاریخ کے اکثرحقیقت شناس اس کو ہیرہ نہیں مانتے۔
کیونکہ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔تصویر کا دوسرا رخ انتہائی خوفناک خونریزی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ کولمبس کی امریکہ دریافت کے بعد جو ظلم وستم کے پہاڑ امریکہ کے اصل باسی ریڈ انڈینزRed Indians پر توڑے گئے ۔ اس کی مثال بھی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اس پر بھی کوشش کروں گا۔کہ اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس کی تفصیل جلد بتا سکوں۔ سر دست اتنا کہنا چاہوں گا۔
اس کولمبس نےنے مقامی آبادی کے ساتھ بدترین سلوک اختیار کیا، انہیں قتل کیا اور غلام بنایا حالانکہ ریڈ انڈینز نے اس کا ساتھیوں سمیت خیرمقدم کیا تھا اور انہیں کھانا اور رہائش بھی فراہم کی۔ ایسی شخصیت کو ہیرو کا درجہ دینا میرے خیال میں تاریخ سے زیادتی ہوگی۔ کولمبس نےاپنے پہلے سفر پر مقامی باشندوں کو اغوا کیا اور انہیں اسپین لے جاکر بطور غلام ہسپانوی حکمرانوں کو تحفتاً پیش کر دیا۔ اس نے مقامی آبادی سے حتی الامکان سونا بھی لوٹ کر اپنے ساتھ لے گیا۔ اور جو کچھ ہیٹی میں ہوا وہ بھی دل دہلا دینے والا ہے۔
1495ء میں جب وہ ہیٹی پہنچا تو اراوک قبیلہ اس کے مظالم کا نشانہ بنا۔ اس کے سپاہیوں نے درجنوں کو ٹھکانے لگا دیا، چھوڑے گئے کتے ان کے سینے اور پیٹ چیر پھاڑ دیتے، اور جھاڑیوں میں چھپے مفرور مقامی باشندوں کا پیچھا کرتے۔ اس بدترین قتل عام کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو سال کے اندر اندر ہیٹی کی نصف آبادی کا خاتمہ ہو گیا۔ 1650ء تک ہیٹی میں کوئی مقامی باشندہ نہ بچا۔ کولمبس بطور انعام اپنے افسران کو مقامی عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے کی پیشکش کرتا۔ ہیٹی میں غلاموں کے ہسپانوی باشندوں کے ساتھ زبردستی جنسی تعلقات استوار کرائے جاتے۔ کولمبس لوٹ مار کر کے واپس تو چلا گیا۔ لیکن
مقامی باشندوں کے مصائب و آلام یہیں ختم نہیں ہوئے۔ کولمبس کے بعد کورٹ اور پزارو جیسے دیگر ظالم اور لالچی یورپی ہسپانوی “فاتحین” آئے جنہوں نے نہ صرف مقامی آبادی کا قتل عام کیا بلکہ ان کی دولت اور وسائل کو بھی لوٹ لیا۔” ایزٹک ” اور” انکا کی ” عظیم تہذیبوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ شمالی امریکہ کے یورپی مہاجرین نے زبردستی مقامی قدیم آبادی کی زمینوں پر قبضہ کر لیا اور ان کو بے یار و مددگار صورتحال میں چھوڑ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں