چند مشورے نواز شریف کی نذر

عبدالرزاق چوہدری

نواز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب سے نااہل ہو چکے۔ نیا وزیراعظم بھی منتخب ہو چکا ۔ملکی معاملات بھی احسن طریقے سے رواں دواں ہیں لیکن مریم نواز صاحبہ کا موقف ہے کہ عوام نواز شریف کی راہ تک رہے ہیں ۔ان کے بغیر ملکی نظم و نسق عمدہ طریقے سے انجام پانا ناممکن ہے ۔نواز شریف کا اقتدار میں رہنا اور پاکستان کی ترقی لازم و ملزوم ہیں ۔ میں ان کے اس موقف کی تائید تو نہیں کرتا لیکن ایک بات اپنے مشاہدے کے بل بوتے پر صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ عدالتی فیصلے کے بعد بھی نوا ز شریف یا ن لیگ کے ووٹ بینک میں کوئی خاص فرق پڑا ہے نہ ہی پڑنے کے امکانات ہیں ۔ ن لیگ کو جب بھی ڈینٹ پڑا اس کو اپنے غلط فیصلوں سے پڑے گا ۔ جس طرح مشہور ڈائیلاگ ہے مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا اسی طرح ن لیگ نوں نواز شریف نہ مارے تے ن لیگ نئیں مردی ۔ کیسے؟ یہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔
نواز شریف کی نااہلی کے بعد شریف خاندان میں اختلافات کی خبریں مسلسل میڈیا کی زینت بن رہی ہیں اور اس تاثر کو اس وقت تقویت ملی جب شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر کر دیا گیا ۔ کچھ صاحب رائے لوگوں کے خیال میں نواز شریف کا یہ فیصلہ درست نہ تھا ۔ اپنے تابع فرمان بھائی پر اعتبار کرنے کی بجائے خاقان عباسی کو قابل بھروسہ سمجھا اور ساتھ ہی حمزہ شہباز کو بھی کسی خاطر میں نہ لائے ۔ میری دانست میں بھی نواز شریف کا خاقان عباسی کو شہباز شریف پر ترجیح دینا کسی طور بھی صائب فیصلہ نہ تھا ۔دگرگوں حالات کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ نواز شریف کو اپنی نااہلی کے بعد شہباز شریف پر مکمل بھروسہ کرتے ہوے اپنی سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہیے ۔ ایک ایسا خاندان اتفاق و اتحاد جس کا طرہ امتیاز رہا ہو اب بکھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ حمزہ شہباز اور مریم نواز کی نوک جھونک کی خبریں بھی اکثر زیر گردش رہتی ہیں ۔ اور شنید ہے کہ حمزہ شہباز موجود ہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور نئی سیاسی صف بندی کے تناظر میں نواز شریف سے کچھ نالاں ہیں ۔
دوسری جانب یہ بات بھی حیرت میں مبتلا کر رہی ہے کہ ایک ایسا شخص جو تیس سال تک کسی نہ کسی حوالے سے اقتدار کی راہداریوں کی سیر کرتا رہا ہے اب بھی اقتدار سے چمٹنے رہنے کا خواہشمند ہے مجھے کیوں نکالا کی پکار کرتے کرتے اب ایسی کسی ترمیم کا سہارا لینا چاہتا ہے جس سے کسی نہ کسی طرح اس کی واپسی ہو سکے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ نواز شریف کی اس وقت ساٹھ سال سے زائد عمرہے ۔ دل کے مریض ہیں ۔ زوجہ محترمہ کینسر کی مریض ہیں اور لندن میں زیر علاج ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اپنا سارا بوجھ اتار کر شہباز شریف کے کندھوں پر رکھ دیں ۔ ویسے بھی حق سچ بات یہ ہے کہ ن لیگ جو آج تک بھی مقبولیت کی کشتی پر سوار ہے یہ سب شہباز شریف کی مرہون منت ہے ۔ نواز شریف تو جب بھی اقتدار میں آئے فوج سے پنگا لینے سے باز نہ آئے ۔ نہ جانے انہیں کیا چسکا ہے فوج سے چھیڑ خوانی کا جو بار بار تکلیفیں اور پریشانیاں اٹھانے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتا ۔ یہ شہباز شریف ہی ہے جس کی شبانہ روز محنت کی وجہ سے عوام ن لیگ کو ابھی تک بھولے نہیں ہیں وگرنہ شہباز شریف کی بجائے پنجاب کی بھاگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی تو ن لیگ کی سیاست کا اب تک جنازہ نکل چکا ہوتا ۔
ایک اور غلطی جو نواز شریف مسلسل کرتے آ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مریم نواز صاحبہ کو وفاق کی بھاگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار کر رہے ہیں ۔ ذرا غور کیجیے یہ بات شہباز شریف کے لیے کس قدر سبکی کا باعث ہو گی کہ وہ تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوں اور ان کی بھتیجی وزیراعظم ہو ۔ یہ سب جچ سکتا ہے لیکن تب جب شہباز شریف بھی سیاسی منظر پر نہ ہوں ۔ میاں صاحب بے شک مسلم لیگ کی کمان سنبھالے رکھیں لیکن اپنی نااہلی کے بعد وزیراعظم کے طور پر شہباز شریف کو ہی سب پر ترجیح دیں ۔ ایک تابع فرمان بھائی کی بجائے ایروں غیروں پر اعتبار کرنے کا نتیجہ ہرگز اچھا برآمد نہ ہوگا ۔ میاں نواز شریف صاحب بے شک میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں کہ شہباز شریف پر عدم اعتماد کا نتیجہ مسلم لیگ کے زوال کے سوا کچھ نہ ہو گا ۔
شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ متحد بھی رہے گی اور اس کی سیاسی کشتی ہچکولے کھانے سے بھی محفوظ رہے گی اور غالب امکان ہے کہ 2018 کا انتخاب بھی مسلم لیگ ایک مرتبہ پھرجیت جائے ۔ لیکن دوسری صورت میں 2018 کے الیکشن میں فصلی بٹیرے مسلم لیگ ن کو ایسا ہاتھ دکھائیں گے کہ نواز شریف صاحب کو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔ در حقیقت لیڈر ہی وہ ہوتا ہے جو اس قدر وژنری ہو کہ مستقبل میں آسانی سے جھانک سکے اور ان حالات کی روشنی میں فیصلے کرے ۔ میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ آج جو میاں نواز شریف کے گیت گا رہے ہیں 2018کے الیکشن میں کہیں نظر نہیں آئیں گے ۔ فی الوقت مسلم لیگ ن میں شہباز شریف کے سوا کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے جو عوام کی نظروں میں کوئی خاطر خواہ حیثیت رکھتی ہو اور جس پر عوام کا کامل بھروسہ ہو ۔
مریم نواز اور حمزہ شہباز دونوں کو الیکشن میں اتارئیے ۔ کامیاب کروانے کے بعد انہیں کوئی منسٹری دیجیے ۔ اگر ان میں ٹیلنٹ ہوا تو اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر آئندہ وزارت عظمیٰ کے لیے بھی وہ امیدوار ہو سکتے ہیں لیکن فی الوقت شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے لیے بہترین چوائس ہیں ۔ شہباز شریف کو بطور وزیر اعظم قبول کرنے کے کئی فائدے ہو سکتے ہیں ۔ پہلا مسلم لیگ متحد و مربوط رہے گی ۔ سازشی عناصر اپنا کھیل کھل کر نہیں کھیل سکیں گے ۔ دوسرا مریم اور حمزہ سیاسی تربیت بھی حاصل کر لیں گے اور تیسرا فائدہ جو سب سے بڑھ کر ہے خاندانی اتحاد و اتفاق میں بھی دراڑ نہیں آئے گی ۔میری دانست میں اگر میاں صاحب ایک لمحہ کے لیے اپنی انا اور اقتدار کی خواہش کو پس پشت ڈال کر میری اس عاجزانہ رائے کو ملحوظ خاطر رکھیں تو یہ صد فیصد ان کی سیاسی بقا کے لیے مفید ہو گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں