مودی کا دورہ پاکستان عوام ورطہ حیرت میں ڈوب گئے

عبدالرزاق چوہدری
ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی جو افغانستان کے دورے پر تھے واپسی پر مختصر اوقات کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔مودی کی یوں پاکستان آمد پر دونوں ممالک پاکستان اور ہندوستان کی عوام ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کیونکہ ابھی تو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوے مودی پاکستان کے حوالے سے زہر اگل رہے تھے اور ان کے ان بیانات کا ہی شاخسانہ تھا کہ لائن آف کنٹرول پر حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور گولہ بارود کے استعمال سے سرحدی علا قوں میں مقیم کئی بے گناہ اور معصوم افراد موت کی وادی میں اتر گئے تھے۔عوامی حلقے اس بات پر حیران ہیں کہ مختصر عرصہ میں مودی کی سوچ میں تبدیلی کس طرح نمودار ہوئی۔یہی وہ نقطہ ہے جس کو لے کر بحث مباحثے کا میدان سر گرم ہے۔بعض کہنہ مشق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی حکومت کی پالیسی کا یو ٹرن عالمی دباو کا نتیجہ ہے۔یاد رہے مودی کی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں نہ صرف مودی کو بلکہ پوری ہندوستانی قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا وہ صورتحال واقعی سبق آموز تھی ۔ حالانکہ جب مودی بر سر اقتدار آئے تھے تو انہوں نے بڑا عمدہ اقدام اٹھایا تھا جس سے یہ امید ہو چلی تھی کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں گرم جوشی برقرار رہے گی کیونکہ انہوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں میاں نواز شریف کو بھی مدعو کیا تھا اور نواز شریف نے ایک ذمہ دار ہمسایہ کا حق ادا کرتے ہوے اس تقریب میں شرکت کی تھی اور اس تقریب میں میاں صاحب کی شمولیت اس بات کا مظہر تھی کہ پاکستان بھارت سے مثالی تعلقات کا خواہاں ہے۔لیکن جونہی مودی نے وزارت عظمیٰ کا حلف ٹھایاتوہندوستان کی سر زمین پر عدم برداشت اور انتہا پسندی کا وہ طوفان برپا ہوا جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دی۔لیکن ان دنوں حالات نے ایک مرتبہ پھر اک نئی کروٹ بدلی ہے اور حالات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے ۔پہلے ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج کی پاکستان آمد اور اب بھارتی وزیراعظم کا پاکستان آنا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے ۔اور تعلقات کی بحالی سے دونوں جانب کی عوام کے لیے باہمی تجارت اور ترقی و خوشحالی کے نئے دریچے وا ہوں گے اور عوامی سطح پر محبتوں کو فروغ ملے گا۔
نریندر مودی کی پاکستان آمد پر میاں نواز شریف نے ہمیشہ کی طرح فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوے مہمان نوازی کی اعلیٰ روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوے مودی کا پرجوش استقبال کیا۔یاد رہے میاں نواز شریف نے نریندر مودی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے پندرہویں اجلاس میں جو روس کے شہر اوفا میں منعقد ہوا پاکستان آمد کی دعوت دی تھی جسے مودی نے قبول کر لیا تھا اور یوں یہ دورہ پاکستان اس دعوت کی قبولیت کی وجہ سے انجام پایا ہے ۔نریندر مودی کے دورہ پاکستان سے قبل بھی کئی ہندوستانی وزرائے اعظم پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں جن میں پنڈت جواہرلال نہرو،راجیو گاندھی اور واجپائی قابل ذکر ہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات میں نریندر مودی کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے اور اس مختصر دورے کے اثرات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے تناظر میں نئے امکانات جنم لے رہے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کے تنازعات کے حل طلب امور پر مذاکرات کا سلسلہ جہاں منقطع ہوا تھا وہیں سے دوبارہ شروع کیا جائے تا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تناو پیدا کرنے والے مسائل کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو اور دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوارہوں۔دوسری جانب پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے مودی کے دورہ پاکستان پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے اور ان کے تحفظات جائز بھی ہیں ۔ جماعت اسلامی مودی کے دورہ پاکستان پر سراپا احتجاج ہے اور جماعت کی اعلیٰ قیادت نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوے کہا وزیر اعظم نے ایک ایسے شخص کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے جو کشمیری اور پاکستانی مسلمانوں کی خوشیوں کا قاتل ہے ۔حافظ سعید نے بھی مودی کی پاکستان آمد کو پاکستانی اور کشمیری مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیا ۔ ان بیانات کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کچھ حلقے ایسے ہیں جو مودی کی پاکستان آمد سے کافی سیخ پا ہیں اور اس کی بنیادی وجہ مودی کا پرتشدد ماضی ہے اور اب بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مستقبل میں مودی اپنی مذموم حرکتوں سے باز آئے نہ آئے۔
پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں خرابی کی ذمہ دار کافی حد تک ہندوستانی انتہا پسند تنظیم شیو سینا بھی ہے ۔ اہم مواقعوں پر اس تنظیم کی جانب سے ایسی مذموم سرگرمیاں منظر عام پر آتی ہیں جس سے سے ہنستے کھیلتے دونوں ممالک سرد مہری کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں اور تعلقات میں کشیدگی کا عنصر نمایاں ہو جاتا ہے ۔ مودی کا حالیہ دورہ پاکستان بھی اس شدت پسند تنظیم کو ہضم نہیں ہو رہا ۔ شیوسینا نے مودی کے دورہ پاکستان پر طنزیہ جملے کسے ہیں اور اپنے بیانات میں کہا ہے کہ مودی پاکستان داود ابراہیم کو لینے گئے ہیں اور اسے لے کر ہی لوٹیں گے ۔ علاوہ ازیں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ مسلہ کشمیر ہے ۔ پاکستان مسلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کی محفل سجا نہیں سکتا جبکہ ہندوستان مسلہ کشمیر کے تنازعہ پر بات چیت سے گریزاں ہے اور اسے اپنا اٹوٹ انگ قراردیتا ہے اور ساتھ ساتھ کشمیریوں پیر ظلم و ستم کی داستانیں رقم کرنے میں مصروف ہے اور ان کی حق خود ارادیت کی آواز کو دبانے میں پیش پیش ہے۔اسی سلسلہ کا واقعہ پچیس دسمبر کو بھی پیش آیا جب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف) کے چیرمین محمد یاسین ملک کو ان کے دیگر معتبر ساتھیوں سمیت اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ ایک کمسن بچے کے بہیمانہ قتل کے سلسلہ میں احتجاجی جلوس میں شریک تھے ۔ سیکیورٹی فورسز نے ان کے جلوس پر دھاوا بول دیا اور شرکا پر وحشیانہ تشدد کیا اور ابھی تک متذکرہ علاقہ میں حالات کشیدہ ہیں۔ مسلہ کشمیر پر گہری نگاہ رکھنے والے بصیرت افروز تجزیہ کاروں کے خیال میں ہندوستان جب تک کشمیریوں کے حقوق کو تہہ دل سے تسلیم نہیں کرتا اور ان کی حسب منشا اس مسلہ کا کوئی پائیدار حل تجویز نہیں کرتا پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات مدو جزر کا ہی شکار رہیں گے۔اور یہ تعلقات کبھی بھی متوازن رخ اختیار نہیں کر سکیں گے ۔اس مسلہ کی نزاکت اور اہمیت کو مد نظر رکھتے ہو ے اب دونوں رہنماوں کی سیاسی بصیرت کا بھی امتحان ہے کہ دونوں رہنما اس کور ایشو کی موجودگی میں کس طرح تعلقات کو باہم استوار کرتے ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں